
دنیا بھر میں آج جنگلی حیات کا دن منایا جارہا ہے۔ اقوام متحدہ کے زیر اہتمام منائے جانے والے اس دن کا مقصد خطرے کا شکار جنگلی حیات کے تحفظ کے سلسلے میں شعور بیدار کرنا ہے۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے سنہ 2013 میں اس دن کو منانے کی قرارداد منظور کی تھی جس کا مقصد جنگلی حیات کے تحفط کے لیے کیے جانے والے اقدامات کو وسعت دینا تھا۔
رواں برس یہ دن آبی حیات کی حفاظت کے نام کیا گیا ہے، آبی حیات کا تحفط اقوام متحدہ کے پائیدار ترقیاتی اہداف میں 14 ویں نمبر پر ہے۔

جانوروں کی موجودگی اس زمین اور خود انسانوں کے لیے نہایت ضروری ہے۔ کسی ایک جانور کی نسل بھی اگر خاتمے کو پہنچی تو اس سے پوری زمین کی خوراک کا دائرہ (فوڈ سائیکل) متاثر ہوگا اور انسانوں سمیت زمین پر موجود تمام جانداروں پر بدترین منفی اثر پڑے گا۔
لیکن بدقسمتی سے ہماری زمین پر موجود جانور تیزی سے خاتمے کی جانب بڑھ رہے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ صحت مند اور صاف ستھرے سمندر ہی سمندری حیات کی بقا کے ضامن ہیں۔
ایک تحقیق کے مطابق زمین پر موجود نصف آکسیجن سمندر پیدا کرتے ہیں، یہ 3 ارب سے زائد لوگوں کا ذریعہ خوراک ہیں جبکہ سمندر زمین پر پیدا ہونے والی کاربن ڈائی آکسائیڈ کی 30 فیصد اور ماحول کی 90 فیصد گرمی کو جذب کرتے ہیں۔
اس وقت دنیا بھر کے سمندر اور آبی ذخیرے بدترین پلاسٹک آلودگی کی زد میں ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ہمارے دریا اور سمندر پلاسٹک سے اٹ چکے ہیں اور سنہ 2050 تک ہمارے سمندروں میں آبی حیات سے زیادہ پلاسٹک موجود ہوگا۔
نیدر لینڈز کے ماحولیاتی ادارے گرین پیس کے مطابق دنیا بھر میں 26 کروڑ ٹن پلاسٹک پیدا کیا جاتا ہے جس میں سے 10 فیصد ہمارے سمندروں میں چلا جاتا ہے۔
مزید پڑھیں: پلاسٹک نے بے زبان وہیل کی جان لے لی
یہ آلودگی آبی حیات کو بری طرح نقصان پہنچا رہی ہے۔ مختلف سمندری حیات پلاسٹک کو کھانے کی اشیا سمجھ کر کھا جاتی ہیں جس کے بعد ان کے جسم میں پلاسٹک بھر جاتا ہے اور وہ مر جاتی ہیں۔
ماہرین کے مطابق پلاسٹک کا کچرا سمندروں سمیت پورے کرہ ارض کے لیے ایک خوفناک خطرے کی صورت میں سامنے آرہا ہے۔
The post آبی حیات پلاسٹک کی آلودگی کے نشانے پر appeared first on ARYNews.tv | Urdu - Har Lamha Bakhabar.
from ARYNews.tv | Urdu – Har Lamha Bakhabar https://ift.tt/2EJVkKj
via IFTTT
No comments:
Post a Comment