
اسلام آباد: احتساب عدالت میں ایون فیلڈ ریفرنس کی سماعت کے دوران سابق وزیر اعظم نواز شریف کے داماد کیپٹن صفدر آج دوسرے روز بھی اپنا بیان ریکارڈ کروا رہے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق احتساب عدالت میں شریف خاندان کے خلاف ایون فیلڈ ریفرنس پر سماعت ہوئی۔ کیس کی سماعت احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے کی۔
سماعت میں کیپٹن صفدر احتساب عدالت پہنچے جبکہ نواز شریف اور ان کی صاحبزادی مریم نواز آج عدالت میں پیش نہیں ہوں گے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ نواز شریف کے وکیل حاضری سے استثنیٰ کی درخواست دائر کریں گے۔ نواز شریف اور مریم نواز ذاتی مصروفیات کی بنا پر پیش نہیں ہوں گے۔
دوسری جانب کیپٹن ریٹائرڈ صفدر آج مسلسل دوسرے روز اپنا بیان جاری رکھیں گے۔ گزشتہ روز انہوں نے 128 میں سے 80 سوالات کے جواب دیے تھے، وہ آج مزید 48 سوالوں کے جوابات قلمبند کراوئیں گے۔
اپنے بیان میں کیپٹن صفدر کا کہنا تھا کہ واجد ضیا کی جانب سے پیش 12 جون کا خط مجھ سے متعلق نہیں۔ فرد جرم قوانین کے مطابق تصدیق شدہ نہیں۔ موزیک فونسیکا کا خط بھی مجھ سےمتعلق نہیں، خط کو شہادت کے طور پر قبول کرنا شفاف ٹرائل کے خلاف ہوگا۔
کیپٹن صفدر سے دریافت کیا گیا کہ واجد ضیاکے کیپٹل ایف زیڈ ای سے متعلق سرٹیفکیٹ پر کیا کہیں گے جس پر انہوں نے کہا کہ سرٹیفکیٹ مجھ سے متعلق نہیں، جافزا کے فارم 9 کی کاپی بھی مجھ سے متعلق نہیں، جبکہ واجد ضیا کے پیش اسکرین شاٹس بھی مجھ سے متعلق نہیں۔
وکیل امجد پرویز نے کہا کہ کیپٹن صفدر کا بہت سی چیزوں سے تعلق ہی نہیں، بہت سی چیزیں ان کی شادی سے قبل کی ہیں۔
کیپٹن صفدر نے مزید کہا کہ گلف اسٹیل کے 25 فیصد شیئرز کی فروخت میں فریق نہیں رہا، شامل نہ ہونے کی وجہ سے ان معاملات کا ذاتی طور پر علم نہیں۔ طارق شفیع کا 12 ملین درہم دینے کا سوال بھی مجھ سے متعلق نہیں۔
سماعت کے دوران نواز شریف اور مریم نواز کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست پیش کی گئی۔ درخواست میں کہا گیا کہ نواز شریف اور مریم نواز مصروفیات کے باعث پیش نہیں ہوسکتے۔
احتساب عدالت کے جج نے کہا کہ اس درخواست پر بعد میں بحث کریں گے۔
نیب پراسیکیوٹر سردار مطفر نے نواز شریف اور مریم نواز کی عدم حاضری پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ بتایا جائے ملزمان کہاں ہیں؟ وکیل صفائی نے ملزمان کے استثنیٰ کی درخواست بھی نہیں دی۔
انہوں نے کہا کہ ملزمان کی حاضری ہر صورت ہونی چاہیئے تھی جس پر مریم نواز کے وکیل نے کہا کہ آپ ہم سے نہیں عدالت سے پوچھیں، ہم نے استثنیٰ کی درخواست عدالت میں جمع کروا دی ہے۔
عدالت نے کیپٹن صفدر سے سوال کیا کہ کیا مریم نواز ایون فیلڈ کی بینفشل آنر ہیں جس پر انہوں نے جواب دیا کہ مریم نواز کا ایون فیلڈ سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں۔
کیپٹن صفدر نے مزید کہا کہ میں کبھی بھی لندن فلیٹ کا مالک نہیں رہا۔ حسن اور حسین نواز میرے برادر ان لا ہیں جس پر نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ شکر ہے کچھ تو مانے ہیں۔
کیپٹن صفدر نے کہا کہ حسن اور حسین نواز کا مفرور ہونا میرے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا، وہ دونوں اپنے کیے کے خود ذمے دار ہیں۔
گزشتہ روز اپنے بیان میں کیپٹن صفدر نے کہا تھا کہ گلف اسٹیل سے میرا تعلق نہیں رہا، یہ معاملہ میری شادی سے پہلے کی بات ہے۔
انہوں نے کہا تھا کہ 1980 کا معاہدہ نہ میں نے فائل کیا نہ ہی میرا کوئی تعلق ہے، حدیبیہ پیپر سے میرا کوئی تعلق نہیں اور جس متفرق درخواست میں یہ معاملہ تھا اس میں فریق نہیں ہوں۔
کیپٹن صفدر نے کہا تھا کہ کوئین بنچ لندن کا فیصلہ میرے متعلق نہیں، ایون فیلڈ سے بھی میرا تعلق نہیں ہے۔
خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔
The post ایون فیلڈ ریفرنس: کیپٹن صفدر کا بیان دوسرے روز بھی قلمبند appeared first on ARYNews.tv | Urdu - Har Lamha Bakhabar.
from ARYNews.tv | Urdu – Har Lamha Bakhabar https://ift.tt/2IYPvMA
via IFTTT
No comments:
Post a Comment