
اسلام آباد: وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ جب گزشتہ حکومت کے باعث جی ڈی پی کا مالی خسارہ 6.6 فیصد ہو جائے تو پھر تشویش ہوتی ہے۔ دوست ممالک کی امداد کے باوجود آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑا۔
تفصیلات کے مطابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے سینیٹ میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ وزیر خزانہ نے این ایف سی ایوارڈ کے لیے نمائندوں کا کہا، صوبوں کی جانب سے تاخیر کی گئی۔ سندھ کی جانب سے خصوصاً نمائندوں کی نامزدگی نہیں کی گئی۔
شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ سوچنے والی بات ہے کہ حکومت کو آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑا، بڑے پیمانے پر مالی استحکام کے لیے آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑا۔
انہوں نے کہا کہ جب گزشتہ حکومت کے باعث زر مبادلہ کے ذخائر 6 ہفتے کے رہ جائیں، جب جی ڈی پی کا مالی خسارہ 6.6 فیصد ہو جائے تو پھر تشویش ہوتی ہے۔ اداروں کی جانب دیکھا جائے تو سب ہی خسارے میں ہیں۔
وزیر خارجہ نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے دور میں کون سا ادارہ منافع میں رہا؟ کوشش کی کہ آئی ایم ایف کے پاس نہ جانا پڑے، کون سا ایسا ادارہ تھا جو منافع دے رہا تھا، شاید کوئی ایک آدھ ہوگا۔ چین، سعودی عرب اور دیگر دوست ممالک نے تعاون کیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ دوست ممالک کی امداد کے باوجود آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑا، گزشتہ حکومت کو آئینی اور قانونی طور پر این ایف سی ایوارڈ دینا چاہیئے تھا۔ معاشی عدم استحکام ملکوں کو پریشان کرتا ہے۔
وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ گورنر اسٹیٹ بینک کو اہلیت کی بنیاد پر لگایا گیا ہے۔ اپوزیشن حب الوطنی کی ٹھیکے دار نہیں، باقر رضا زیادہ تنخواہ چھوڑ کر ملک کے لیے کم تنخواہ پر آرہے ہیں۔ سندھ میں صوبے کی بربادی ہوگئی ہے۔ سندھ کے تمام وسائل پی پی کے پاس ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سی پیک کو کوئی خطرہ نہیں ہے، غم نہ لگائیں۔ پاکستان کے جوہری اثاثوں کو کوئی خطرہ نہیں۔ پاکستان میں کوئی صدارتی نظام نہیں آرہا۔ ملک کو لوٹا گیا اس کے باوجود این ایف سی ایوارڈ آئے گا۔
اس سے 2 روز قبل میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ماضی کی حکومتیں معیشت کا بہت بگاڑ کر کے گئی ہیں، معیشت کی بہتری میں وقت لگے گا۔
انہوں نے کہا تھا کہ وزیر اعظم نے ہمیں ذمہ داریاں سونپی ہیں، جو وزیر کارکردگی دکھائے گا وہی آگے آئے گا، تحریک انصاف حکومت نے غریبوں کے لیے احساس پروگرام شروع کیا ہے۔
The post دوست ممالک کی امداد کے باوجود آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑا: وزیر خارجہ appeared first on ARYNews.tv | Urdu - Har Lamha Bakhabar.
from ARYNews.tv | Urdu – Har Lamha Bakhabar http://bit.ly/2vLcCRK
via IFTTT
No comments:
Post a Comment