
لندن: میانمار میں قید دو برطانوی صحافیوں کی رہائی کے بعد دونوں ملکوں کے تعلقات خوش گوار اور بحال ہوگئے۔
تفصیلات کے مطابق میانمار میں روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی کرنے پر دونوں برطانوی صحافیوں نے حکام کے ناپاک عزائم کو منظر عام کیا تھا جس کی پاداش میں انہیں میامنار میں گرفتار کرلیا گیا تھا۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق برطانوی وزیر خارجہ جیریمی ہنٹ نے کہا ہے کہ لندن حکومت اور میانمار کے باہمی تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز ممکن ہو گیا۔
مطابق میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے ہنٹ نے منگل کے روز کہا کہ ایسا میانمار میں زیر حراست برطانوی خبر رساں ادارے کے دو مقامی صحافیوں کی رہائی کے باعث ممکن ہوا۔
ان کا کہنا تھا کہ ان دونوں صحافیوں کو میانمار کی ریاست راکھین میں دس روہنگیا مسلمانوں کے قتل کے ایک واقعے کی صحافتی چھان بین کرنے کی وجہ سے سات سات سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔
برطانوی وزیر خارجہ کا مزید کہنا تھا کہ میانمار کی حکومت کو اب ریاست راکھین میں روہنگیا مسلمانوں کے بحران سے متعلق بھی اسی طرح کے کھلے پن کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔
یاد رہے کہ گذشتہ سال اگست میں برما کی ریاست رکھائن میں ملٹری آپریشن کے نام پر برمی فوج کی جانب سے روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی کی گئی تھی جس کے باعث مجبوراً لاکھوں روہنگیا مسلمان بنگلہ دیش ہجرت کر گئے تھے۔
روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی پر میانمار فوج کے سربراہ کے خلاف مقدمہ ہونا چاہیے: سفیر اقوام متحدہ
علاوہ ازیں گذشتہ سال 9 مئی کو بنگلہ دیش کے دار الحکومت ڈھاکہ میں اسلامی تعاون کی تنظیم (او آئی سی) کا 45 واں اجلاس منعقد ہوا تھا جس میں مسلم ممالک کے رہنماؤں نے روہنگیا بحران کو مسلمانوں کی نسل کشی قرار دیا تھا۔
The post برطانوی صحافیوں کی رہائی، میانمار اور برطانیہ کے تعلقات خوشگوار appeared first on ARYNews.tv | Urdu - Har Lamha Bakhabar.
from ARYNews.tv | Urdu – Har Lamha Bakhabar http://bit.ly/2J7iM7v
via IFTTT
No comments:
Post a Comment